منڈیا / میسور، 20 ستمبر (یو این آئی) کاویری ندی کے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان جاری تنازعہ پر آج سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے پیش نظر کاویری ندی کے علاقے میں احتیاط کے طور پر حکم امتناعی لگا دیا گیا ہے ۔منڈیا ضلع کے پانچ تعلقوں میں اسکول بند رکھے گئے ہیں۔قانون و انتظام برقرار رکھنے کیلئے ضلع میں سکیورٹی فورسز کے چار ہزار سے زیادہ جوان تعینات کئے گئے ہیں۔ضلع پولیس نے کے آر ایس آبی ذخائر اور بنگلور۔میسور ہائی وے سمیت تمام حساس مقامات کی سیکورٹی بڑھا دی ہے ۔ رام نگر ضلع میں بھی حکم امتناعی نافذ ہے ۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ ہند۔تبت سرحدی پولیس کی کچھ پلاٹون، نیم فوجی دستے کی چھ کمپنیوں، فوری کارروائی دستہ اور انسداد فساد دستہ کی 35 پلاٹون کو ضلع بھر میں تعینات کیا گیا ہے ۔اس درمیان پولس نے ضلع کے مختلف علاقوں میں فساد کرنے اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 110 افراد کو گرفتار کیا ہے ۔کاویری نگراں کمیٹی نے کرناٹک حکومت کو 30 ستمبر تک تمل ناڈو کے لئے روزانہ تین ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کو کہا ہے ۔میسور کے ڈپٹی کمشنر ڈی رندیپ نے کہا کہ اسکول اور کالج کھلے رہیں گے اور ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کی بنگلور اور ریاست کے دوسرے حصوں تک آمدورفت بحال ہو گئی ہے ۔ پولیس انسپکٹر روی ڈی چنناناور نے کہا کہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اضافی سیکورٹی فورسز تعینات کی گئی ہے ۔